حیدر آباد پولس اور ای ڈی مجھ پر مسلمان ہونے کی وجہ سے ظلم کر رہی ہے ڈاکٹر نوہیرا شیخ

نئی دہلی (ریلیز) ہنس نیوز سروس کے ایک انٹر ویو میں ہیرا گروپ آف کمپنیز کی سی ای او اور بانیہ محترمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے پولس اور ای ڈی پر ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے مسلمان ہونے کی وجہ سے ظلم کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ہنس نیوز سروس کے اس انٹر ویوکو ساﺅتھ بھارت کے کئی زبان کے اخباروں نے سہ سرخیوں میں شائع کیا ہے۔ ہنس نیوز سروس کے مطابق ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے کہا کہ آج اٹھ مہینے گزرنے کو ہیں اور پورے بھارت میں ہمارے خلاف جانچ ایجنسیوں کو مستعد کرکے الگ الگ طریقے سے ٹارچر کرتے ہوئے جانچ پڑتال کی گئی۔ ساری تفاصیل اور ثبوتوں کے توسط سے ایک ایک روپیہ کا حساب دیا گیا۔ جہاں لے جاکر انکوائری کرنی چاہی وہاں بھی جا کر دکھا کر اور صاف حق بتا کر ایک ایک ایجنسی کو معلومات دی گئی ۔ بینک کے ایک ایک روپئے کے ٹرانجیکشنز کو بھی کھول کھول کر باقاعدہ پروف کے ساتھ بتایا گیا ۔ لیکن روز بروز ایک ایک جانچ ایجنسیوں کو مجھے کھلونے کے طرح سونپ کر میرے اوپر بار بار وہی سوال دہرائے جاتے ہیں جو میں نے آٹھ جگہوں کی الگ الگ مقامات پر کسٹڈی میں بتائے ہیں۔ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے کہا کہ آٹھ نہیں آٹھ سو جگہوں پر پوچھ جانچ کرلیں ۔ حق ہی نکلے گا ۔کیونکہ ہم نے کسی کا ایک روپیہ غبن نہیں کیا ہے۔ کیونکہ ہم دنیا میں آخرت کی تیاریاں کرتے ہیں۔ دنیا میں کئے گئے ہر چھوٹے بڑے عمل کا آخرت میں حساب دینا ہوگا۔
 ہنس نیوز سروس کے سوال ”کیا ابھی تک کسی چارج شیٹ میں کچھ غبن کا الزام ثابت ہو پایا ہے؟“پر محترمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے بتایا کہ چارٹ شیٹ میں الزام کی بات تو آپ جانے دیں ۔ پانچ جگہوں پر ابھی تک جارج شیٹ داخل کرنے کیلئے پولس کو الفاظ نہیں مل رہے ہیں ۔کہ اتنی صاف شفاف کمپنی پر کیا لکھیں اور کیا نہ لکھیں۔ ابھی تک مجھے سات جگہوں سے صاف ضمانت مل چکی ہے۔ اس کے باوجود مجھے سیاسی سازش اور ایم آئی ایم والوں کی سازشوں سے پریشان کرنے اور میری کمپنی کو توڑنے اور میری شبیہ کو غلط ثابت کرنے کیلئے سیاسی طاقت کے بل بوتے پر یہاں سے وہاں گھمایا جا رہا ہے ۔ تاکہ میں ٹوٹ جاﺅں اور میری کمپنی برباد ہو جائے۔ لیکن میں یقین سے کہہ رہی ہوں کہ ہمیں ہمارے عظیم ملک کے عظیم قانون پر بھروسہ ہے ہم پر انصاف ہوگا۔ اور دنیا دیکھے گی سیاسی بھڑیوں نے مجھے مسلمان ہونے کی وجہ سے اپنے رسوخ کا غلط فائدہ اٹھایا ہے۔ 
 ہنس نیوز سروس کے سوال ”کیا کمپنی آگے چلنے کی استطاعت رکھتی ہے ؟“کے جواب میں ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے کہا کہ کمپنی چلنے کی استطاعت رکھتی ہے نہیں بلکہ کمپنی اپنے آب وتاب سے چل رہی ہے۔ جب ہم چھوٹ کر باہر آئیں گے تو دنیا دیکھے گی کہ مجھے گرفتار کرنے کے دوران میری کمپنی نے ہزاروں کروڑ کا ٹرن اوور کیا ہے ۔سیکڑوں کروڑ روپئے میں پرافٹ حاصل کیا ہے۔ لیکن ہماری کمپنی کا شہہ رگ جو ہمارا اکاﺅنٹ تھا اسے سیز کرکے مجھے پیسے دینے کی بات کیا جائے گا تو ہم کیسے بریں گے آپ خود بتائیں۔ ہماری کمپنی کا ہر شخص ایک دن دیکھ لے گا کہ میں حق پر ہوں اور باطل نے حق کو مٹانے کیلئے ہمیشہ ہر دور میں ہر کوشش کی ہے ۔ لیکن حق غالب ہونے کیلئے آیا ہے اور باطل کا مقدر مٹ جانے والا ہے۔ میرے قدموں کے آگے بڑھتے ہوئے پتہ نہیں کیوں لوگوں کو اپنے وجود کے بقا کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے کہ مجھے حراساں کرنے کی جی توڑ محنت کی جا رہی ہے۔ بہت اچھا ہوتا کہ یہ سیاست کی طاقت اچھے کاموں کیلئے استعمال کیا جاتا اور جو وقت اور پیسے میرے اوپر ظالم خرچ کر رہے ہیں وہ وقت اور پیسے عوام کے اوپر جائز طریقے سے خرچ کرتے تو مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ 
 ہنس نیوز سروس کے سوال ”کمپلین کرنے والوں کے ساتھ کیا رویہ رہے گا آپ کا؟ “جواب میں ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے کہا کہ میرا کسی کے ساتھ ذاتی رنجش نہیں ہے۔ ایف آئی آر درج کرنے والوں نے مجھ پر کم خود پر زیادہ ظلم کیا ہے۔ ایف آئی آر کرنے والوں نے گھر کے جھگڑے میں غیروں کو شریک کرلیا۔ اور غیروں نے معاملے کو کورٹ کچہری تک پہنچا دیا۔ ایسے میں اگر میں چاہوں بھی تو کورٹ کچہری کوئی میرے اختیار کی چیزیں نہیں۔ اگر کمپلین کرنے والوں نے خود کو کورٹ کے کٹہرے میں کھڑا کیا ہے تو کورٹ ہی اس کا فیصلہ کرے گا۔ میرا اس میں کوئی عمل دخل کیسے ہوسکتاہے۔ اگر کورٹ اور قانون کو انہوں نے پکارا ہے تو وہی کورٹ اور قانون میرے ساتھ بھی اور ان کے ساتھ بھی انصاف کرے گا۔ اب کمپلین کرنے والوں کی شکایت کا ازالہ ہونے کا وقت پانچ سال لگے یا دس سال ۔ رہی میرے آنے کی بات تو میں یہ بات یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ پولس اور جانچ ایجنسیاں جس دن حق کا ساتھ دینے لگیں گی اور انصاف کیلئے آگے بڑھیں گی میں پلک جھپکتے ہی باہر ہوں گی۔ کیونکہ میں غلط نہیں ہوں ۔ میں نے برسہا برس لوگوں کو حلال منافع دے کر ایک تاریخ رقم کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ دو لاکھ ممبران میں سے ایک لاکھ ننانورے ہزار پانچ سو لوگوں نے اللہ اور کمپنی پر بھروسہ دکھایا ہے۔
 ہنس نیوز سروس کے سوال کے ”کیا آپ کے پاس اس مقدار میں پیسے مہیا ہیں کہ لوگوں کی اصل پونجی انہیں لوٹا سکیں؟“۔ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ آپ اصل رقم کی بات تو کریں ہیساتھ ہی ساتھ آپ یہ دیکھیں گے کہ ہمارا ممبرہماری ادائیگی سے حیران اور خوش ہوگا۔ کیونکہ جن کو ان کے اصل رقم چاہئے ان کو باقاعدہ ایک اچھے پرافٹ کے ساتھ اور جن کو کمپنی میں بنے رہنا ہے ان کو پرافٹ کے ساتھ پیسے دئے جائیں گے۔ اور میںڈاکٹر نوہیرا شیخ سی ای او ہیرا گروپ آپ کمپنیز اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے یہ بتانا چاہتی ہوں کہ ہندستان کی سب جانچ ایجنسیاں مل جائیں اور حق کے ساتھ کھڑی ہوکر فیصلہ لیں تو میری کسٹڈی کا پہلا دن غیر ضروری تھا اور آج جو کچھ مجھ پر ، کمپنی پر اور اس کے ساتھ دو لاکھ افراد اور ان کے پیچھے بیس لاکھ کنبہ کے لوگوں کے پر ہورہا ہے وہ صرف اور صرف اس لئے ہو رہا ہے کہ یہ سب مسلمان ہیں اور جن لوگوں نے اس کمپنی کے ساتھ دھوکہ دہی اور سازش کا کھیل کھیلا ہے وہ مسلمانوں کی معیشت کے کھلے دشمن ہیں۔ 

Comments

Popular posts from this blog

Former Chinsura Mogra Block President Debabrata Biswas's homecoming after leaving BJP and holding the Trinamool flag again was witnessed with enthusiasm and excitement among the fans

State Sub-Junior Boxing Championship Concludes in Shibpur; Bengal’s Rising Boxers Secure Tickets to National Championship in Jalandhar

Suraksha Clinic and Diagnostics Expands Its Presence in Kolkata With The Launch Of New Diagnostics Centre in Shyambazar; Councillor Dr. Minakshi Ganguly inaugurates the same