مسلم انسٹی ٹیوٹ کی ادبی سب کمیٹی کا دو روزہ تاریخی قومی سیمینار۔ ۔۔
ادبیات بنگالہ جہات و امکانات کے کلیدی عنوان سے دی مسلم انسٹی ٹیوٹ کی ادبی سب کمیٹی کے زیر اہتمام کل دو
روزہ قومی سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے معروف شاعروادیب پرفیسر قیصر شمیم نے کہا کہ چند زبانیں ایسی ہوتی ہیں جن کو صرف زبان کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اردو انہی زبانوں میں سے ایک ہے۔ یہ زبان اپنی تہذیب سے ایسی جڑی ہوئ ہے جسے نہ کل حاشیے پر رکھا جا سکتا ہے نہ آج۔ بنگال میں اردو ادب کی دیرینہ روایت رہی ہے اور یہاں کا ادب علاقائ دشواریوں کے باوجود قومی سطح پر اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ ڈاکٹر نوشاد مومن اور انسٹی ٹیوٹ کے تمام اراکین مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں ایسے موضوع کا انتخاب کیا جس کی ضرورت آج کے تناظر میں بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اس پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام الٰہی سے ہوا اور اختتام مرحوم علقمہ شبلی اور اظہارلاسلام کی دعائے مغفرت پر ہوا۔ اعزازی لٹریری سکریٹری ڈاکٹر نوشاد مومن نے سیمینار کی غایت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس سیمینار سے بیرون بنگال اور اندرون بنگال کے معروف قلمکار متعدد عنوانات کے تحت یہاں کی ادبی سرگرمیوں اور مختلف اصناف پر قلمکاروں کی طبع آزمائ کس حد تک ادب کے اقدار کو روشن اور اسکے معیار میں ا ضافہ کرتی ہے۔ خیر مقدمی کلمات ادا کرتے ہوئے اعزازی جنرل سکریٹری جناب نثار احمد نے کہا کہ ہمارا ادارہ سو سال سے زاید کا سفر طے کر چکا ہے۔ اس نے مختلف میدانوں میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ ہماری ادبی کمیٹی اس وقت جتنی فعال نظر آرہی ہے اس میں ڈاکٹر نوشاد مومن کی انتھک محنت شامل ہے۔ یہ انکی ذہنی اُپج کا نتیجہ ہے کہ انہوں ایک ایسے موضوع کا انتخاب کیا اور ایسے ایسے مقالہ نگاروں کو دعوت قلم دیا جن کی ادبی خدمات سے آج کا معاصر ادبی منظر نامہ خوش رنگ نظر آتا ہے۔ جس طرح انسانی زندگی میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اسی طرح ادب اور ادبی معاشرے میں کیا تبدیلیاں ہوئ ہیں یا ہو رہی ہیں اسکا احاطہ بڑی حد تک ہمارے دو روزہ نیشنل سیمینار میں مقالہ نگاروں کے پرچوں سے آپکو ہوگا۔ ادارے کے صدر جناب ندیم الحق ممبر پارلیامنٹ راجیہ سبھا نے اپنی تقریر میں کہا کہ جس طرح طلبا و طالبات اور اہل علم کی بڑی تعداد اس سیمینار میں موجود ہے اس سے یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہاں ادب کی سر زمین آج بھی بڑی زرخیز ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نوشاد مومن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے سامعین اور اہم مقالہ نگاروں کی تشریف آوری پر شکریہ ادا کیا۔دلی دوردرشن نیوز کے ڈپٹی ڈائریکٹر جناب خورشید اکرم نے کہا کہ ہمیں یاد آتا ہے کہ تقریباً بیس برس پہلے نعیم انیس نے اسی ادارے کے زیر اہتمام بنگال کا اردو ادب کے عنوان سے سیمینار کروایا تھا جس میں ریاست کے اہم قلمکاروں نے اپنے مقالے پیش کئے تھے۔ آج ٢٠ سال بعد نوشاد مومن نے ادبیات بنگالہ جہات و امکانات کے کلیدی عنوان سے ادب میں ہوئ نئ تبدیلیوں کا احاطہ کرنے کے پیش نظر اس کا دائیرہ قومی پیمانے پر وسیع کیا ہے۔ انہوں نے جن موضوعات کا انتخاب کیا ہے وہ ہر ایک اعتبار سے قابل ستایش ہے۔ ادبی سب کمیٹی کے چئر مین اچاریہ جمال احمد نے بھی جلسے کو خطاب کیا اور اپنے تہنیتی قطعات سے سامعین کی خوب داد وصول کی ۔صدر جلسہ ڈاکٹر ابوبکر جیلانی نے صدارتی خطبے میں انسٹی ٹیوٹ کی کارکردگی کے روشن پہلو کا ذکر کرتے ہوئے سیمینار کے متعدد عنوانات کے تحت پیش کئے جانے والے مقالوں سے بنگال کی ادبی سمت و رفتار کا بہ خوبی اندازہ لگائے جانے کی توقع ہے۔ ڈاکٹر نوشاد مومن نے جس سلیقے سے اس سیمینار کا انعقاد کیا ہے وہ یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں۔ افتتاحی دور کے صدارتی کلمات کے بعد سیمینار کے پہلے تکنیکی اجلاس کا آغاز ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت پروفیسر قیصر شمیم نے کی جس میں چار مقالے پیش کئے گئے۔ پہلا پرچہ ڈاکٹر غالب نشتر نے بنگال کے اردو فکشن میں تہذیب و معاشرت کی عکاسی کے حوالے سے پیش کیا۔ اپنے مقالے میں انہوں نے ارض بنگالہ کے ان چار افسانہ نگاروں پر روشنی ڈالی جن کے افسانوں میں بنگال کا کلچر وافر تعداد میں نمایاں ہیں۔ انکی نظر میں انیس رفیع صدیق عالم اظہارالاسلام شبیر احمد پر تفصیل سے گفتگو کی۔ انکے خیال میں بنگالی تہذیب کو یوں بھی ایک کلاسیکی تہذیب کا درجہ حاصل ہے۔ اردو افسانے کو ایسے فنکاروں کا احسان ماننا چاہیئے ۔ ایسے فنکاروں کی پذیرائ کرنی چاہیئے جنہوں نے بنگلہ تہذیب و تمدن کو اردو افسانے میں شامل کرکے قاری کو ایسے نازک احساسات سے روشناس کرایا جس کا مظاہرہ اردو ادب میں بہت کم کم ہوا ہے۔ دوسرا مقالہ ڈاکٹر عبد الحئ نے بنگال کی ادبی صحافت : ماضی اور حال کے عنوان سے پیش کیا۔ اپنے پر مغز مقالے میں انہوں نے ابتدا تا حال تقریباً تمام ادبی صحافت کے ان جیالوں کا ذکر کیا جنہوں نے اس میدان عمل میں ایک طویل مدت گزاری ہے۔ تیسرا مقالہ اردو لسانیات اور مغربی بنگال کے حوالے سے ڈاکٹر درخشاں زریں نے خوب صورت لحن کے ساتھ پیش کیا اپنے مقالے میں انہوں نے سرزمین بنگالہ کے ان تمام ماہر لسانیات کا تفصیلی جائزہ لیا جنہوں نے قومی اور عالمی سطح پر اپنی شناخت مستحکم کی ہے۔ اپنی تحقیق کے حوالے سے انہوں نے یہ ثابت کرنے کی سعی کی کہ ماضی کی طرح عصر حاضر میں بھی چند ایسے درخشاں ستارے ہیں جن کی لسانی خدمات سے کسی طور انکار ممکن نہیں۔ پہلے سیشن کا آخری مقالہ ڈاکٹر منصور عالم نے پیش کیا۔ حالانکہ انہوں نے اپنی سہولیت کے لئے عنوان میں کچھ رد و بدل کرکے اسے بنگال کی نظموں میں اخلاقی قدروں کی تلاش بنا دیا۔ مقالے میں انہوں کچھ نئے اور بیشتر پرانے نظم گو شعرا کے حوالے سے اپنے عنوان کے ساتھ انصاف کرنے کی اچھی کوشش کی ۔ اس کے بعد سوال و جواب کا دور شروع ہوا جس میں جناب خورشید اکرم جناب اشرف جعفری جناب کمال احمد اور جناب اظہار عالم نے حصہ لیا جن کے تشفی بخش جواب ڈاکٹر عبد الحئ اور ڈاکٹر درخشاں زریں نے دیے۔ اخیر میں صدر اجلاس جناب قیصر شمیم نے پیش کئے گئے تمام مقالات پر تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے مقالہ نگاروں کی کاوشوں کو سراہا اور انہیں کچھ نیک مشوروں سے نواز کر انکے طویل قلمی سفر کے لئے دعاوں سے نوازا۔ قیصر شمیم کے صدارتی کلمات اور ڈاکٹر نوشاد مومن کے اظہار تشکر کے بعد پہلا تکنیکی سیشن اختتام کو پہنچا۔ اتوار کو دوسرے تیسرے اور چوتھے تکنیکی اجلاس میں خورشید اکرم حقانی القاسمی ظہیر انور ڈاکٹر نسیم احم نسیم ڈاکٹر احمد کفیل ڈاکٹر سنجر ہلال بھارتی ڈاکٹر امتیاز وحید ڈاکٹر عمر غزالی جناب مقصود دانش ڈاکٹر نیلوفر فردوس ڈاکٹر سید علی عرفان نقوی اپنے مقالے پیش کریں گے۔ (رپورٹ: خورشید جہاں / غالب نشتر) ۔


Comments
Post a Comment