بھدریشور تھانے کی پولیس نابالغہ کی شادی رکوائی گارجین سے کہا کہ اگر آپ شادی کرواتے ہیں تو جہاں کرشنا کا جنم ہوا تھا وہیں رہنا ہوگا ، ہم غریبوں کےلئے کون ہے : گارجین
- Get link
- X
- Other Apps
ہگلی/یکم دسمبر ( محمد شبیب عالم ) آئین قانون کے پھندے میں پڑی ایک نابالغہ اگر پولیس کو یہ خبر کسی نے نہیں دی ہوتی تو شاید اس غریب والدین کی نابالغ لڑکی کی شادی ہوچکی ہوتی ۔ مگر لوگ کہتے ہیں نہ کہ قانون قانون کے راستے ہی چلےگا ۔ ایک خفیہ زرائع سے خبر ملتے ہی شادی سے کچھ گھنٹے قبل پولیس یہاں پہنچ گئی اور لڑکی والوں کو بتایا کہ یہ شادی نہیں ہو سکتی نابالغ کی شادی غیرقانونی ہے ۔ اسکے لئے سزا بھی ہوسکتی ہے ۔ یہ واقعہ ہے ۔ بھدریشور تھانہ کے تحت پاٹول ماجھیرپاڑہ گرام کا جہاں رتن ملک کے گھر بھدریشور تھانہ کی پولیس کے ساتھ ہگلی ڈالسا کے ممبران ساتھ ہی چائلڈ لائن ۔ پولیس نابالغہ لڑکی کے والد رتن ملک سے تفصیلات پوچھی تو انہوں نے کہا کہ 16سال کی عمر میں لڑکی کی شادی کروانا غیرقانونی ہے مجھے پتہ نہیں تھا ۔ یہ بات سن کر موقعے پر پولیس اپنی دبنگ انداز میں ان سے بات کرنی شروع کی ۔ پہلے کس سے شادی ہورہی ہے ؟ کہاں کا رہنے والا ہے پوچھا ۔ اسکے بعد لڑکی والوں نے بتایا کہ لڑکا کا نام بسواجیت دے ہے ۔ وہ چنسورہ پیارہ بگان علاقے کا رہنے والا ہے ۔ پھر پولیس لڑکے کا موبائل نمبر مانگا اور فون کیا اور کہا کہ تماری شادی ہوئے والی ہے ؟ ادھر سے جواب آیا ہاں ۔ پھر پولیس نے کہا اب تماری شادی نہیں ہوگی ۔ پھر کہا کہ اپنے والد کا نام بتاؤ ادھر سے جواب آیا نرمل دے ۔ اتنا سب کچھ پوچھنے پر لڑکا پھر سوال یوچھا ؟ اس پر یہاں سے پولیس نے کہا کہ میں " میجو بابو بھدریشور تھانہ تھیکے " پہلے چنسورہ تھانے میں تھا ۔ پتہ کرلو وہاں بنرجی کیبن میؤمور اور بھی کئی لوگ جانتے ہیں ۔ پولیس اسطرح سے باتیں لڑکی والے کے یہاں کھڑا ہوکر ہی پوچھ رہی تھی ۔ پھر اس نے پوچھا کے تمہیں پتہ ہے تم نابالغ سے شادی کررہے ہو ؟ تمہاری عمر کیا ہے ؟ لڑکے نے جواب دیا 28 سال ۔ پولیس اور اس لڑکے کی بات صاف سنائی دے رہی تھی اس لئے کہ فون کو اسپیکر پر ڈالا ہوا تھا ۔ پھر لڑکا کچھ سوال کیا تو پولیس نے کہا کہ پہلے چٹنی کھاؤ گے یا بھات میں جو پوچھ رہا ہوں بولو پریشان کیوں ہورہے ہو ۔ اسکے بعد لڑکی والوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں کہانی سننے نہیں آیا ہوں ۔ " اگر آپ اپنی لڑکی کی شادی کروائے تو کرشنا کا جنم جہاں ہوا تھا وہیں آپ کو رہنا ہوگا " ۔ اب فیصلہ کرلو کہاں رہنا ہے ۔ لڑکی والوں نے پھر کہا کہ ہمیں اس قانون کا علم نہیں تھا ۔۔۔ اس پر پولیس نے کہا کہ یہ بات ایک کاغذ پر لکھ کر دو اور ساتھ ہی یہ بھی لکھو کہ 18 سال لڑکی کا عمر ہونے کےبعد ہی اسکی شادی کرواؤگے ۔ آخر میں لڑکی والوں نے اسطرح کے بیان پر دستخط کرکے پولیس کو دیا ۔ ادھر جب لڑکی کی ماں سے اخباری نمائندہ نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اب کیا ہوگا ۔ تمام لوگوں کو دعوت نوید دیا جاچکا ہے ۔ کھانے کا سامان سے لیکر تمام ضروریات کے سامان کی خریداری ہوچکی ہے ۔ تمام تیاریاں بھی مکمل ہوچکی ہیں ۔ ہم بہت غریب لوگ ہیں ماٹی کاٹ کر دو وقت کی روٹی جگاڑتے ہیں ۔ بڑی مشکلوں سے یہ سب جگاڑ کئے ہیں ۔ کیا ہوگا ہمارا ۔ پھر اس نے اخباری نمائندوں سے گزارش کی کہ آپ لوگ پولیس کو کہیں کہ یہ شادی ہونے دیں ۔ صحافیوں نے کہا کہ مگر پولیس تو غیرقانونی شادی بتائی ہے ۔ آپکی لڑکی کی عمر ابھی صرف 16 سال ہے ۔ پھر اس نے کہا کہ ہم غریبوں کےلئے کوئی رشتہ بھی تو نہیں ملتا ہے ۔ نہ ہی کوئی ہمارے لئے کھڑا ہوتا ہے ۔ یہ رشتہ ملا تھا اچھا لگا اس لئے ہم لوگ تیار ہوگئے ۔ مگر پتہ نہیں کون ہمارے بارے میں پولیس کو بتادیا ۔ ہم لوگ غریب اپنے میں لگے رہتے ہیں کسی کا کچھ بگاڑا بھی نہیں ۔ پھر ہمارے خلاف لوگ کھڑے ہوگئے ۔ اس معاملے میں جوالہ پرساد مہتو نامی ایک شخص نے بتایا کہ ہم " ڈالسا " نامی تنظیم سے جڑے ہوئے ہیں ۔ جو لڑکیوں پر ظلم ہونے کے خلاف سامنے کھڑی ہوتی ہے ۔ اس نے کہا کہ اس نابالغ کی شادی سے متعلق جیسے ہی مجھے اطلاع ملی میں ڈالسا کے سیکریٹری انرمن رائے سے بات کیا اور ان ہی کی ہدایت پر بھدریشور تھانے کی پولیس اسکے بعد چائلڈ لائن کو اطلاع کیا ۔ ساتھ ہی رتن مالک کے گھر پہنچ کر انہیں بتایا کہ یہ شادی غیرقانونی ہے ۔ تھوڑی ہی دیر میں پولیس بھی موقعے پر پہنچ گئی اور نابالغہ کی شادی ہوتے ہوتے بچ گئی ۔
Comments
Post a Comment