چندن نگر اسپتال کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نے معصوم روپسا رائے تھیلا سیمیامریضہ کو خون عطیہ کرکے انسانیت کا مثال قائم کیا
- Get link
- X
- Other Apps
ہگلی3/دسمبر ( محمد شبیب عالم ) کورونا وباء کی وجہ سے انسانی زندگی میں بےشمار مسائل سامنے پیدا ہوگئے ہیں ۔ لوگ لگاتار مسائل سے نجات پانے کی امیدیں لگائے رکھے ہیں ۔ مگر کیسے ممکن ہوگا ۔ موت سے بچنے بچانے کے اس دور میں لوگ پتہ نہیں کیا کیا کن کن چیزوں کو کھودیئے ہیں ۔ روزگار ، نوکریاں تو گئی ہی کتنے اپنوں کو بھی لوگوں نے کھو دیا اور اسکی بھرپائی شاید ہی ممکن ہے ۔ جیسے کہ کورونا وباء کی وجہ سے ہرسال مختلف کلب اداروں تنظیموں کے جانب سے خون عطیہ کیمپ لگائی جاتی رہی ہے ۔ اس سال وہ ممکن نہیں ہوسکا اور اب لوگوں کو پتہ چل رہا ہےکہ جو کھویا سو کھویا ۔ مگر ابھی خون کے بحران سے نہ جانے کتنوں کو کھونا پڑے گا ۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔ ہرروز کہا اس سپرنٹنڈنٹ کے طرح لوگ ملیں گے جو خود کا خون عطیہ کریں گے ۔ آج اسی طرح کا بےنظیر مثال قائم کرتے نظر آئے چندن نگر اسپتال کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ شانتنو مکھرجی ۔ ہگلی ضلع کے چنڈی تلہ تھانہ کے تحت کرشنا پور کرال گاچھا گرام کی رہنے والی معصوم روپسا رائے والد کا نام منوج رائے اور ماں کا نام رونارائے تھلیسمیا کی مریض ہے ۔ ہمیشہ خون کی قلت محسوس ہونے پر اسکے گارجین اسپتال میں داخل کرواتے ہیں ۔ اس بچی کا بلڈ گروپ 0 پوزیٹو ہے ۔ گزشتہ رات اسکے والدین روپسا کو چندن نگر کے بچہ وارڈ میں داخلہ کروائے تھے ۔ مگر پتہ چلا کہ یہاں blood bank میں خون کی قلت ہےاور اس گروپ کا خون دستیاب نہیں ہے ۔ صبح اسکے والدین اسپتال کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ شانتنو مکھرجی سے ملے ۔ سپرنٹنڈنٹ پوری بات جاننے کے بعد ڈاکٹروں سے بچی کے متعلق جانا اور آخر میں خود اپنا ہی خون عطیہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے ۔ اس لئے کہ انکے خون کا گروپ بھی 0 پوزیٹو ہی ہے ۔ اسطرح سے بچی کو خون دیکر بچی کا علاج کیا ۔ اس متعلق جب اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سے پوچھا گیا تو انہوں نے پوری بات بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں صبح جب اسپتال ڈیوٹی پر آیا تو ایک گارجین سات سال کی بچی کے بارے میں بتائے اور کہا کہ خون نہ ملنے سے مشکلیں پیدا ہوجائے گی ۔ تب مجھ سے رہا نہ گیا اور اپنا خون دے دیا ۔ وہ کہتے ہیں اکثر عوامی خدمت میں لگے رہتے ہیں ۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ میں لوگوں سے اپیل کرونگا کہ خون عطیہ کے لئے سامنے آئیں ۔ کورونا وباء کی وجہ سے اسپتال خون کی بحران سے گزر رہا ہے ۔ آپ اسپتال آکر بھی خون عطیہ کر سکتے ہیں ۔ اس دوران انہوں نے اور کہا کہ انکا ایک انجنیئر دوست انکی اس کارکردگی سے متاثر ہوکر وہ بھی خون عطیہ کیا جسکا گروپ A پوزیٹو ہے جو ایک اور بچی کو دیا گیا ۔ انہوں نے اور کہا کہ اگر آپکے حوصلے بلند ہوں اور خدمت کا جذبہ ہوتو آپکے اردگرد پاس پڑوس معاشرے میں کوئی مسلہء باقی نہیں رہ جاتا ۔ ادھر روپسا کی ماں رونا رائے نے کہا کہ ہم اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کا شکرگزار ہے جنہوں نے میری بچی کو خون دیا ۔ ساتھ ہی اسپتال کے ڈاکٹروں کا بھی شکریہ ادا کی ۔
Comments
Post a Comment