اپولو ملٹی اسپیشلٹی ہسپتال کولکاتا نے "پریسیژن پارشیل نی ریکنسٹرکشن" کے ساتھ آرتھوپیڈک نگہداشت کے ایک نئے دور کا آغاز کیا
کولکاتا / 12 جون : کولکاتا کے اپولو ملٹی اسپیشلٹی ہسپتال نے آرتھوپیڈک (ہڈیوں کے امراض) کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے "پریسیژن پارشیل نی ریکنسٹرکشن" (گھٹنے کی جزوی بحالی کی سرجری) کا آغاز کیا ہے۔ اس جدید اور مریض دوست تکنیک کا مقصد پورے گھٹنے کو تبدیل کرنے کے بجائے صرف اس خراب حصے کا علاج کرنا ہے جو متاثر ہو چکا ہو۔ یہ روایتی ٹوٹل نی ریپلیسمنٹ (پورے گھٹنے کی تبدیلی) کا ایک مؤثر متبادل ہے۔
ہسپتال کے سینئر کنسلٹنٹ آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر رنجن کاملیا اور کنسلٹنٹ آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر سمین گنگولی نے ایک طبی بریفنگ کے دوران بتایا کہ اس جدید اور انتہائی درست تکنیک کی مدد سے گھٹنے کے صرف خراب شدہ حصے کو تبدیل کیا جاتا ہے جبکہ صحت مند ہڈیاں اردگرد کے ٹشوز اور قدرتی لیگامنٹس مکمل طور پر محفوظ رہتے ہیں۔
عالمی مطالعات کے مطابق یونی کمپارٹمنٹل نی ریپلیسمنٹ (UKR) کے نتائج نہایت مؤثر اور محفوظ ثابت ہوئے ہیں۔ آکسفورڈ کے مطالعات کے مطابق اس سرجری کے بعد لگایا گیا حصہ 10 سال تک 93 فیصد اور 15 سال تک 89 فیصد مریضوں میں مکمل طور پر فعال اور محفوظ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ روایتی ٹوٹل نی ریپلیسمنٹ (TKR) کے مقابلے میں اس سرجری کے بعد ابتدائی 30 دنوں میں سنگین طبی پیچیدگیوں کا خطرہ تقریباً 50 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
یہ طریقہ مریض کو گھٹنے کی بہتر کارکردگی فراہم کرتا ہے اور روایتی سرجری کے بعد درکار 3 سے 6 ماہ کے مقابلے میں مریض صرف 4 سے 6 ہفتوں کے اندر ہلکی جسمانی سرگرمیوں اور کھیلوں کی طرف واپس لوٹ سکتا ہے ۔ کولکاتا کے پریس کلب میں صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے
ڈاکٹر رنجن کاملیا نے وضاحت کی کہ اگرچہ روایتی طور پر پورے گھٹنے کی تبدیلی کو معیاری علاج سمجھا جاتا رہا ہے لیکن بہت سے مریضوں کو دراصل پورا گھٹنا تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس نئی تکنیک کے ذریعے صرف متاثرہ حصے کا علاج کیا جاتا ہے جس سے جسم کو کم صدمہ پہنچتا ہے صحت یابی تیزی سے ہوتی ہے اور گھٹنے کی قدرتی حرکت برقرار رہتی ہے۔
موجودہ طرزِ زندگی میں تبدیلی ، جسمانی غیرفعالیت اور جوڑوں پر بڑھتے دباؤ کے باعث نوجوانوں میں بھی گھٹنوں کے درد اور جوڑوں کے گھسنے کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق بالغ افراد میں گھٹنے کے آسٹیو آرتھرائٹس کی شرح 22 فیصد سے 39 فیصد تک ہے جبکہ 60 سال سے زائد عمر کے افراد میں یہ شرح بڑھ کر 44 فیصد سے 50 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
ایسے نوجوان اور منتخب مریضوں کے لیے یہ تکنیک ایک بہترین حل ہے جو انہیں قدرتی احساس کے ساتھ جلد معمول کی زندگی میں واپس آنے میں مدد دیتی ہے ۔
Comments
Post a Comment